کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 49

میری سفارش قبول فرما۔قرآن کہے گا :اے اللہ !میں نے اسے راتوں کو سونے سے روکا تھا ،لہذا اس کے بارہ میں میری شفاعت قبول فرما۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائیگی ] ثابت ہوا کہ رمضان میں تلاوتِ قرآن کو خصوصی اہمیت حاصل ہے،تلاوتِ قرآن دن میں بھی ہولیکن راتوں میں زیادہ اہتمام ہوجیسا کہ عبد اللہ بن عمرو کی مذکورہ حدیث اور عبد اللہ بن عباس کے مذکورہ اثر سے ثابت ہورہا ہے ۔راتوں کو تلاوت کی زیادہ اہمیت اس لئے ہے کہ یہ کام کاج سے فراغت کا وقت ہوتا ہے اور دل غور وفکر اور تدبر وغیرہ پر مجتمع ہوتا ہے ،اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی راتوں میں نسبتاً لمبا قیام کیا کرتے تھے چنانچہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے رمضان کی ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات سورۃ البقرۃ،آل عمران اور سورۃ النساء کی تلاوت فرمائی، حتی کہ بلال رضی اللہ عنہ نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نمازِ فجرکا وقت قریب ہونے کی اطلاع دی (مسند احمد،سنن نسائی) سلف صالحین رمضان کے مہینہ میں تلاوتِ قرآن کا خوب اہتمام کیا کرتے تھے بعض سلف صالحین سے رمضان کے ہر تیسرے دن قرآن ختم کرنے کا ذکر ملتا ہے، جبکہ بعض اس سے بھی کم وقت میں ختم کیا کرتے تھے، قتادۃ بن دعامۃ، عام دنوں میں ہر ساتویں دن اور رمضان میں ہر تیسرے دن قرآنِ مجید ختم کرلیا کرتے تھے ،امام زہری جب بھی رمضان کا مہینہ آتا فرماتے :تلاوتِ قرآن اور اطعامِ طعام (غریبوں

  • فونٹ سائز:

    ب ب