کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 52

ایک اور حدیث میں ہے کہ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاردار وادی سے گزرے اور فرمایا: اگر میرے پاس اس وادی کے کانٹوں کے برابر اونٹ ہوتے تو میں سب کے سب تم میں بانٹ دیتا] (بخاری ومسلم) ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے کہ[ اگر اللہ تعالیٰ میرے لئے اُحد پہاڑسونے کا بنادے تو میں تین دن کے اندر سب کا سب تقسیم کردوں۔ ] جس نبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عام دنوں میں سخاوت کا یہ حال ہے،رمضان المبارک میں اس کی سخاوت کی کیفیت کیا ہوگی ؟ واضح ہوکہ رمضان المبارک میں صدقہ وسخاوت کا خصوصی اجر ہے، مسند احمد،سنن نسائی اور جامع ترمذی وغیرہ میں زید بن خالد کی روایت سے ایک صحیح حدیث مروی ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:[من فطر صائما فلہ مثل أجرہ من غیر أن ینقص من أجر الصائم شیٔ]یعنی جو کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے گا اسے اس کے روزے کا مکمل اجر دیا جائے گا،اس طرح کہ اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ]یہی حدیث طبرانی میں اُم المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے،اس میں ان الفاظ کا اضافہ بھی موجود ہے ،[روزہ دارکے جسم میں جب تک اس کھانے کی قوت موجود رہے گی اس کے تمام اعمالِ صالحہ کا اسے اجر ملتا رہے گا] رمضان المبارک میں جود وسخاوت کی زیادہ فضیلت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ رمضان ، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مہینہ ہے، یہ رحمتیں ان بندوں پر اور زیادہ نازل ہوتی ہیں جو اپنے بھائیوں کے ساتھ رحمت وشفقت کا برتاؤ کریں،اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے :[إنما یرحم اللہ من عبادہ الرحماء ] بے شک اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں پر خوب رحمتیں نازل فرماتا ہے جو اس کے بندوں کیلئے رحم دل ہوتے ہیں۔(صحیح بخاری ومسلم) ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ اور صدقہ کا جمع ہونا جنت کو واجب کردیتا ہے،چنانچہ جامع ترمذی میں جنابِ علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:[إن فی الجنۃ غرفا یری ظھورھا من بطونھاوبطونھا من ظھورھا]قالوا :لمن ھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟قال:[لمن طیب الکلام وأطعم الطعام وأدام الصیام وصلی باللیل والناس نیام ]یعنی [جنت میں بہت سے ایسے کمرے بنے ہوئے ہیں جن کے اندر سے باہر کا حصہ اورباہر سے اندر کا حصہ نظر آئے گا ۔صحابہ نے پوچھا:یہ کمرے کن کیلئے ہیں ؟ فرمایا:جو اچھی گفتگوکریں،غریبوںکو کھانا کھلائیں،روزے رکھتے رہیں اور رات کو جب لوگ سوچکیں تو وہ نماز پڑھنا شروع کردیں ۔]اس سے ثابت ہوا کہ رمضان کے مہینہ میں صدقہ کرنا،موجباتِ جنت میںسے ہے،اس کے ساتھ ساتھ اچھی گفتگواور قیام اللیل کا اہتمام بھی ہوناچاہئے۔ اسی لئے صحیح مسلم میں بروایتِ ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ ایک حدیث ہے:[ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :آج کس کا روزہ ہے ؟ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

  • فونٹ سائز:

    ب ب