کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 53
ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ اور صدقہ کا جمع ہونا جنت کو واجب کردیتا ہے،چنانچہ جامع ترمذی میں جنابِ علی رضی اللہ عنہ سےمروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: [إن فی الجنۃ غرفا یری ظھورھا من بطونھاوبطونھا من ظھورھا]قالوا :لمن ھی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟قال:[لمن طیب الکلام وأطعم الطعام وأدام الصیام وصلی باللیل والناس نیام ]یعنی (جنت میں بہت سے ایسے کمرے بنے ہوئے ہیں جن کے اندر سے باہر کا حصہ اورباہر سے اندر کا حصہ نظر آئے گا ۔صحابہ نے پوچھا:یہ کمرے کن کیلئے ہیں ؟ فرمایا:جو اچھی گفتگوکریں،غریبوں کو کھانا کھلائیں،روزے رکھتے رہیں اور رات کو جب لوگ سوچکیں تو وہ نماز پڑھنا شروع کردیں ۔)اس سے ثابت ہوا کہ رمضان کے مہینہ میں صدقہ کرنا،موجباتِ جنت میں سے ہے،اس کے ساتھ ساتھ اچھی گفتگواور قیام اللیل کا اہتمام بھی ہوناچاہئے۔ اسی لئے صحیح مسلم میں بروایتِ ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ ایک حدیث ہے:(ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :آج کس کا روزہ ہے ؟ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: