کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 56

ر و ز ہ ا و ر قبو لیت ِد عا ء روزہ کے فضائل میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ یہ عظیم الشان عمل بہت زیادہ قبولیتِ دعاء کا باعث بنتا ہے،شرط یہ ہے کہ روزہ صحیح بنیادوں پر قائم ہو،کیونکہ روزہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے ،بندہ اپنے عمل کے ذریعے جس قدر اللہ تعالیٰ کے قریب ہوگا اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ اسکے قریب ہوگا ۔ایک حدیث قدسی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:[ومن تقرب منی شبرا تقربت منہ ذراعا ومن تقرب إلی ذراعا تقربت منہ باعا ، ومن أتانی یمشی أتیتہ ھرولۃ ]یعنی جو شخص ایک بالشت میرے قریب ہوگا میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہونگا،اورجو شخص ایک ہاتھ قریب ہوگا میں دوہاتھ اس کے قریب ہونگا،اور جو میری طرف چل کر آئے گا میں اس کی طرف دوڑکر جاؤنگا ](متفق علیہ) واضح ہوکہ روزہ دار کی دعاء کی مقبولیت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین موجود ہیں : عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :ثلاثۃ لا ترد دعوتھم ۔الصائم حتی یفطر ،والإمام العادل ،ودعوۃ المظلوم یرفعھا اللہ فوق الغمام ،ویفتح لھا أبواب السماء ویقول الرب وعزتی،لأنصرنک ولو بعد حین] ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:[تین آدمیوں کی دعاء رد نہیں کی جاتی: ایک روزہ دار جب تک وہ افطار نہ کرلے، دوسرا عادل حکمران،

  • فونٹ سائز:

    ب ب