کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 57

تیسرا مظلوم شخص ،جس کی دعا اللہ تعالیٰ بادلوں کے اوپر اٹھالیتا ہے اور اس کیلئے آسمانوں کے دروازے کھول دیتا ہے ،اور فرماتا ہے:مجھے اپنی عزت کی قسم، میں تیری مدد ضرور کرونگا،خواہ کچھ وقت گزرنے کے بعدکروں]( اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا اور اسے حسن قرار دیا) ایک اور حدیث ملاحظہ ہو:عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما یقول: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :[إن للصائم عند فطرہ لدعوۃ ماترد](رواہ ابن ماجہ ۱۷۵۳) عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:[افطار کے و قت روزہ دار کی دعاء رد نہیں کی جاتی] رمضان المبارک کا قبولیتِ دعا ء سے کتنا گہرا تعلق ہے،اس کااندازہ اس ترتیب سے ہوتا ہے جو اللہ رب العزت نے قرآنِ حکیم میں قائم فرمائی،چنانچہ سورۃ البقرۃ میں جہاں روزہ کے احکام بیان فرمائے تو عین وسط میں اس آیتِ کریمہ کا تذکرہ فرمایا: {وَاِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ أُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا لِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ}(البقرۃ:۱۸۶) ترجمہ:( جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں، ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے ، قبول کرتا ہوں اس لئے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں)

  • فونٹ سائز:

    ب ب