کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 58

اس آیتِ کریمہ سے قبل بھی روزے کے کچھ احکام ومسائل ہیں اور بعد میں بھی ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ روزے کی قبولیتِ دعاء میں خصوصی تأثیر ہے،لہذا روزہ داروں کو دعاء کا خاص اہتمام کرنا چاہئے۔ واضح ہوکہ دعاء کے کچھ آداب وشرائط ہیں انہیں ضرور ملحوظ رکھا جائے،جن میں سے کچھ امور درجِ ذیل ہیں : (۱) اللہ تعالیٰ سے دعا ء کی جائے،غیر اللہ (خواہ وہ نبی ہو یا فرشتہ یا کوئی بھی چیز ) سے دعاء کرنا شرک ہے،(تفصیل کیلئے ہمارے کتاب توحید الٰہ العالمین دیکھئے ) (۲) دعاء کرنے والا ظاہری وباطنی طہارت پر قائم ہو۔ (۳) قبلہ رُخ ہو۔ (۴) ایسے اوقات میں دعاء کی کوشش کرے جن میں قبولیت منصوص ہے،وہ اوقات یہ ہیں:رات کا آخری تہائی حصہ،اذان کے وقت ،اذان واقامت کے درمیان،بارش کے نزول کے وقت ،روزہ کے افطار کے وقت،سجدہ میں، تشہدِ اخیر کے آخر میں سلام پھیرنے سے قبل ،نماز کے بعد،اس وقت جب امام خطبۂ جمعہ کیلئے منبر پر چڑھے،جمعہ کے دن عصر کے بعد (بالخصوص آخری گھڑیوں میں ) ،دورانِ سفر (بشرطیکہ وہ سفرِ اطاعت ہو)اور دورانِ جہاد وغیرہ۔ (۵) دعاء کے وقت حضورِ قلب ؛کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:[ اللہ تعالیٰ غافل دل کی دعاء قبول نہیں فرماتا۔ (۶) اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع وخضوع اور ذلت وانکساری کا اظہار ہو۔ (۷) دعاء کے شروع،وسط اور آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد پڑھا جائے ۔ (۸) اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء ،اور اسکے مقابلے میں اپنی کوتاہیوں کا اعتراف۔ (۹) مسنون اورمأثور دعاؤں کا انتخاب۔ (۱۰) دعاء میں اعتداء نہ ہو،دعاء میں اعتداء قیامت کی علامت ہے،اعتداء سے مراد ایسی دعاء جس میں خلافِ شریعت امور ہوں،مثلاً:کسی گناہ کی طلب ،قطع رحمی،کسی ناممکن چیز کی دعاء ،اپنے لئے کوئی ایسی چیز طلب کربیٹھے جس کے وہ لائق نہیں ہے، مثلاً: رتبۂ نبوت یا فرشتہ بنائے جانے کی دعاء وغیرہ ۔ (۱۱) دورانِ دعاء توبہ واستغار کرتا رہے،یہ اللہ تعالیٰ کی خوشی کا باعث ہے نتیجۃً دعاء کی قبولیت کا سبب ۔ (۱۲) رزقِ حلال پر اکتفاء ،حرام روزی دعاء کی قبولیت سے مانع ہے،اس پر نصوص موجود ہیں ۔ (۱۳) دعاء سے قبل کوئی نیک عمل کرلیا جائے،مثلاً:صدقہ ،نفل،تلاوتِ قرآن وغیرہ (۱۴) ایسے مقامات پر جاکر دعاء کی جائے جن کی افضلیت شریعت سے ثابت ہے، مثلاً:مسجدِ حرام ،مسجدِنبوی اور مسجدِ اقصیٰ وغیرہ ۔ (۱۵) دعاء کی قبولیت میں عجلت یا تاخیر کی صورت میں اکتاہٹ کا اظہار نہ کرے۔ (۱۶) اللہ تعالیٰ کے ساتھ ثقہ اور اسکی ذات پر توکل کا تقاضا یہ ہے کہ دعاء کرنے

  • فونٹ سائز:

    ب ب