کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 60

کے بعد قبولیتِ دعاء کا یقین کرلے ۔ (۱۷) اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعاء کرے ۔(دلیل :حدیثِ غار ) (۱۸) دعاء میں اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کا وسیلہ اختیار کرے۔ ر مضان ا و ر قیا م ا للیل ماہِ رمضان میں قیام اللیل جو صلاۃ التراویح ،صلاۃ التھجد اور صلاۃ الوتر وغیرہ ناموں کے ساتھ موسوم ہے کی بڑی فضیلت ہے : عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال:کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یرغب فی قیام رمضان من غیر أن یأمرھم بعزیمۃ ثم یقول:[من قام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ ] (رواہ البخاری ومسلم) ترجمہ:ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامِ رمضان کی ترغیب فرمایاکرتے تھے،البتہ حتمی طور پہ پڑھنے کا امر نہیں فرماتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:[جو شخص ایمان کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ سے اجر لینے کی نیت سے رمضان کا قیام کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ تمام گناہ معاف فرمادے گا] عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:[ان اللہ تبارک وتعالیٰ فرض صیام رمضان علیکم ،وسنت لکم قیامہ فمن صامہ وقامہ احتسابا خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ أمہ ](رواہ النسائی (۴/۱۵۸)

  • فونٹ سائز:

    ب ب