کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 61

ترجمہ:ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:[ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کردیئے ہیںاور میں نے رمضان کا قیام مسنون قرار دیا ہے، پس جو شخص رمضان میں روزوں اورقیام کا پورے اخلاص کے ساتھ اہتمام کریگا وہ گناہوں سے یوں پاک ہوجائے گاجیسے اس دن تھا جس دن ا س کی ماں نے اسے جنا تھا] واضح ہوکہ قیام ِرمضان یا صلاۃ التراویح کی رکعات کی مسنون تعداد آٹھ ہے اور وتر کے ساتھ گیارہ ۔اس کی دلیل صحیح بخاری کی یہ حدیث ہے:عن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن أنہ سأل عائشۃ رضی اللہ عنھا کیف کانت صلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی رمضان فقالت: [ماکان یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی احدی عشرۃ رکعۃ …الحدیث](صحیح بخاری ۲۰۱۳) ترجمہ:ابو سلمۃ بن عبد الرحمن نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے سوال کیا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں (تراویح کی)نماز کیسی تھی؟فرمایا:[رمضان ہویا غیر رمضان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ رکعت سے زیادہ کبھی نہیں پڑھیں…] جابر رضی اللہ عنہ کی بھی ایک مرفوع روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آٹھ رکعت تراویح اور وتر پڑھنا منقول ہے۔(مختصر قیام اللیل للمروزی ص:۲۱۷) سائب بن یزید سے مروی ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے، ابی بن کعب اور تمیم الداری رضی اللہ عنھما کو گیارہ رکعت تراویح پڑھانے کا حکم دیا تھا۔(مختصرقیام اللیل :ص۲۲۰) یہ اثر مؤطا امام مالک میں بھی مذکور ہے،۱/۱۱۵)

  • فونٹ سائز:

    ب ب