کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 62

جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابی ابن کعب رمضان کے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات مجھ سے ایک کام ہوگیا ؟فرمایا:کیا ہوا؟عرض کیا :میری بستی کی عورتیں گھر آگئیں اور کہنے لگیں ہمیں زیادہ قرآن یاد نہیں ہے،ہم آج تمہارے پیچھے نمازِ(تراویح) پڑھنا چاہتی ہیں،تو میں نے انہیں آٹھ رکعت اور وتر پڑھا دیا ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر سکوت فرمایا جو علامت ِرضاء تھی۔ (مختصر قیام اللیل :ص:۲۱۷) واضح ہوکہ بیس رکعت تراویح کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے ،یزید بن رومان کے طریق سے جو امیر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعت کا ذکر کیا جاتا ہے وہ اثر ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں انقطاع ہے،پھر یہ اثر گذشتہ سطور میں بحوالہ مؤطا امام مالک اور قیام اللیل للمروزی مذکور اثر کے خلاف ہے ،کیونکہ اس اثر میں بصراحت یہ بات ذکر ہے کہ امیر عمر رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو آٹھ رکعت پڑھانے کا حکم دیا تھا ۔ رمضان ا ور عشرِا خیر رمضان المبارک کا ہر ہر لمحہ رحمتوں اوربرکتوں سے پُر ہے، جن سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے اور پورے مہینہ کی راتوں اور دنوںمیں کاروبارو مصروفیاتِ دنیا سے الگ تھلگ ہوکر، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تلاوتِ قرآن کیلئے کچھ خلوت کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب