کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 66

ا عتکا ف کی فضیلت اعتکاف کی فضیلت میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کی روایت سے طبرانی اور مستدرک حاکم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان مذکور ہے: [من اعتکف یوما ابتغاء وجہ اللہ جعل اللہ بینہ وبین النار ثلاث خنادق کل خندق ابعد مما بین الخافقین ] یعنی[ جو شخص اللہ کی رضاء حاصل کرنے کیلئے ایک دن کا اعتکاف کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں تیار کروادے گا ہر خندق کی چوڑائی مشرق ومغرب کے فاصلے سے بھی زیادہ ہوگی ](اس حدیث کو امام حاکم نے صحیح الاسنادکہا ہے) اعتکاف مسجد میں خلوت اختیار کرنے کا نام ہے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کے دوران ایک چٹائی کی مکمل آڑ میں بیٹھا کرتے۔ اعتکاف کی حکمت تمام اشغال وہموم ِ دنیا سے کٹ کر اللہ تعالیٰ سے مناجات اور راز ونیاز کرنے کیلئے خلوت اختیار کرناہے،نیز شبِ قدر جو عشرِ اخیر کی کسی طاق رات میں آتی ہے ،کاحصول بھی اعتکاف کے مقاصد میں سے ہے ۔ اعتکاف ایک شرعی خلوت ہے ،اس میں یہ پوری کوشش ہونی چاہئے کہ لوگوں سے اختلاط اور ان کے امور سے اشتغال کم سے کم ہو،امام احمد بن حنبل فرمایا کرتے تھے: ’’ معتکف کیلئے لوگوں سے میل جول مناسب نہیں،حتی کہ تعلیم ِعلم اور تدریسِ قرآن

  • فونٹ سائز:

    ب ب