کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 7

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وبعد روزہ کی لغوی واصطلاحی تعریف عربی لغت میں روزہ کو ’’الصوم‘‘ کہتے ہیں جو باب صام یصوم وصیاما سے مصدرہے، صوم کا لغوی معنیٰ ’’امساک ‘‘ یعنی کسی چیز سے رک جانا ہے،اس معنیٰ کی لفظِ صوم سے مناسبت یہ ہے کہ صائم یعنی روزہ دار ،ایک مخصوص وقت کیلئے کھانے، پینے اورجماع وغیرہ سے رک جاتا ہے۔ اصطلاح شریعت میں صوم کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے: ’’الامساک عن المفطرات مع اقترانہ النیۃ من طلوع الفجر الی غروب الشمس‘‘ (تفسیر قرطبی (۱/۶۵۰)فتح البیان فی مقاصد القران(۱/۳۶۲) ’’یعنی طلوعِ فجر سے لیکر غروبِ آفتاب تک تمام مفطرات سے اس طرح رک جانا کہ (مکمل روزے میں) نیت شاملِ حال رہے‘‘ تعریف کی وضاحت: طلوعِ فجر سے مراد فجرِ ثانی ہے، جسے صبحِ صادق کہتے ہیں اس وقت ا فقِ سماوی پر صبح کا نور پھوٹتا اور نمودار ہوتا ہے۔ مفطرات سے مراد وہ تمام چیزیں جو روزہ توڑنے کا سبب بنتی ہیں: مثلاً: کھانا ،پینا یا بیوی سے صحبت کرنا وغیرہ،چنانچہ روزہ کی حالت میں ان تمام چیزوں سے بازرہناضروری ہے،اس کے علاوہ گناہوں کے ارتکاب سے بھی بچنا ضروری ہے؛کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے: [من لم یدع قول الزور اوالعمل بہ فلیس ﷲ حاجۃ فی أن یدع طعامہ وشرابہ من أجل]

  • فونٹ سائز:

    ب ب