کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 8

ترجمہ:[ جو شخص روزہ کی حالت میں قولِ زور یا عملِ زور سے باز نہیں آتا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا اور پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے] یہ نکتہ عظیم مفسر امام قرطبی رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے ۔ قولِ زور سے ہر وہ بات مراد ہے جو شریعت کے خلاف ہو،مثلاً: جھوٹ،غیبت، چغلی،اور بہتان طرازی وغیرہ ،جبکہ عملِ زور سے ہر وہ فعل مراد ہے جو شریعت کے خلاف ہو اس میں تمام صغیرہ وکبیرہ گناہ شامل ہیں۔ نیت فعلِ قلب ہے اور روزے کی حالت میں نیت کے شامل ہونے سے مراد یہ ہے کہ : (۱) روزے دار کو معلوم ہوکہ وہ روزہ سے ہے۔ (۲) یہ عقیدہ بھی اسے معلوم ہو کہ روزہ اللہ تعالیٰ کا فریضہ ہے،یعنی اس کا ترکِ طعام وشراب وغیرہ اللہ تعالیٰ کے امر اور فریضہ کی بناء پر ہو محض ڈائٹنگ وغیرہ کی نیت نہ ہو، نہ ہی یہ نیت ہو کہ علاقے یا محلے یا گھر میں سب روزہ رکھتے ہیں لہذا میں بھی رکھ ہی لوں،اگر نہ رکھا تو لوگ کیا کہیں گے؟ (۳) یہ نیت بھی ہو کہ روزہ صر ف اللہ تعالیٰ کیلئے ہے۔ (۴) اور یہ نیت بھی ہو کہ اس کا اجر صرف اللہ تعالیٰ سے مطلوب ہے ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب