کتاب: روزہ حقیقت و ثمرات - صفحہ 9

آخر الذکر دونوں نیتوں کا شا ملِ حال ہونے کا اس حدیث ِقدسی سے اشارہ ملتا ہے: [الصوم لی وأناأجزی بہ] (رواہ البخاری من حدیث ابو ھریرۃ ) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :[روزہ میرے لئے ہے اور اس کی جزاء بھی میں ہی دوں گا] نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: [من صام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ] (متفق علیہ) ترجمہ:[جو شخص ایمان کے ساتھ ،اور اللہ تعالیٰ سے اجر لینے کی نیت سے روزہ رکھے گا اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے] واضح ہو کہ اس حدیث میں ’’ایمانا‘‘ کی شرط بڑی معنی خیز اور قابلِ غور ہے،اس شرط کا تقاضہ یہ ہے کہ روزہ کی صحت وقبولیت کیلئے ایمان کی سلامتی ضروری ہے،اسی لیئے قولہ تعالیٰ:{ یَاأَ یُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ } (البقرۃ:۱۸۳) میں فرضیتِ روزہ کے تعلق سے اہلِ ایمان ہی مخاطب ہیں،لہذا {کتُِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ}تک پہنچنے سے پہلے {یَاأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا} کی منزل طے کرنا ضروری ٹھہرا ،اب شریعت ِاسلامیہ میں کسی بھی شخص کو اس وقت تک ا یمان کی صحت و سلامتی حاصل نہیں ہوسکتی ،جب تک مندرجہ ذیل چھ امور کے متعلق اس کا علم وعقیدہ درست نہ ہو،درست ہونے کا معنی یہ کہ کتاب وسنت کے عین مطابق ہو(یہ چھ امور حدیثِ جبرئیل میں مذکور ہیں : [ الایمان أن تؤمن ب اللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ]

  • فونٹ سائز:

    ب ب