کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 19
ہوکہ یہ سائل کون تھا ؟میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اوراس کا رسول بہترجانتے ہیں ،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل امین تھے ،جوتمہارے پاس،تمہیں ،تمہارادین سکھانے آئے تھے۔ یہ حدیث خلیفۂ ثانی ،امیرالمؤمنین عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح مسلم میں موجودہے،صحیح مسلم کے پہلے عنوان ’’کتاب الایمان‘‘ کی پہلی حدیث یہی ہے،جبکہ یہی حدیث صحیح بخاری نیزصحیح مسلم میں ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے موجودہے۔ اس کے علاوہ یہ حدیث مختلف کتب میں مروی ہے،مثلاً:مسند امام احمد،سنن ابی داؤد،جامع ترمذی،سنن نسائی،سنن ابن ماجہ،مسند ابی داؤد الطیالسی،صحیح ابن حبان،مسند ابویعلی،شعب الایمان للبیہقی ،شرح السنۃ للبغوی،صحیح ابن خزیمہ اور کتاب الشریعۃ للآجری وغیرہ۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں مزید پانچ صحابہ کے نام ذکر کیے ہیں ،جن سے یہ حدیث مروی ہے: (1 )ابوذرغفاری ،ان کی حدیث ابوداؤد اورنسائی میں ہے۔ ( 2) عبد اللہ بن عمر،ان کی حدیث مسند احمد اورطبرانی میں ہے۔ (3)انس بن مالک ،ان کی حدیث مسند بزار اور خلق افعال العباد للبخاری میں ہے۔ (4 )جریر بن عبد اللہ البجلی،ان کی روایت صحیح ابوعوانۃ میں ہے۔ (5)عبد اللہ بن عباس،ان کی روایت مسند احمد میں ہے۔ اس کے علاوہ مسنداحمد میں یہ حدیث بروایت ابوعامر الاشعری بھی موجودہے۔ علماء کی نظر میں اس حدیث کی اہمیت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماکر کہ ’’یہ جبریل امین تھے جوتمہیں، تمہارا دین سکھانے آئے تھے‘‘ اس حدیث کی اہمیت کو آشکارا فرمادیا، گویا یہ حدیث تعلیمِ دین کا بڑاجامع مرقع ہے اور علومِ نبوت کی بڑی اہم دستاویزہے۔