کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 20
قاضی عیاض رحمہ اللہ شرحِ صحیح مسلم میں فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث تمام ظاہری وباطنی عبادات کا مجموعہ ہے،اس میں امورِ ایمان بھی ہیں اور ظاہری اعمال بھی، نیز یہ حدیث اخلاص کی تعلیم اور آفاتِ اعمال سے تحفظ جیسے امورپر بھی مشتمل ہے،تمام علومِ شریعت اسی حدیث کی طرف لوٹتے ہیںاور اسی حدیث سے پھوٹتے ہیں…‘‘ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث علوم ومعارف اور آداب ولطائف کی بہت سی انواع پر مشتمل ہے،بلکہ یہ حدیث اصلِ اسلام ہے ۔‘‘ امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’مناسب ہوگا کہ اس حدیث کو اُم السنۃ(یعنی سنت کی ماں)کا نام دیاجائے؛کیونکہ یہ حدیث تقریباً جملہ علومِ شریعت کومتضمن ہے۔‘‘ ابن دقیق العید رحمہ اللہ کا قول ہے:’’جس طرح سورہ فاتحہ اُم القرآن ہے اس طرح یہ حدیث اُم السنہ ہے۔‘‘ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’یہ بڑی عظیم حدیث ہے، جوپورے دین کی شرح پر مشتمل ہے ۔‘‘ اس حدیث کے وارد ہونے کا قصہ واضح ہو کہ بروایت صحیح مسلم،اس حدیث کو عبد اللہ بن عمرنے اپنے والد عمربن خطابرضی اللہ عنہما سے ذکرفرمایاہے،صحیح مسلم کے سیاق کے مطابق ایک سبب ظاہرہواتھا،جس کی بناء پر عبد اللہ بن عمرنے اپنے والدگرامی کی روایت سے اس حدیث کو بیان فرمایا۔ وہ قصہ صحیح مسلم میں اس طرح مذکورہے: عن یحیی بن یعمر قال: کان أول من قال فی القدر بالبصرۃ معبد الجھنی، فانطلقت أنا وحمید ابن عبدالرحمن الحمیری حاجین أو معتمرین، فقلنا، لو لقینا