کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 21
ا حداّ من أصحاب رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فسألناہ عما یقول ھؤلاء فی القدر،فوفق لنا عبدﷲ بن عمر بن الخطاب داخلا المسجد، فاکتنفتہ أنا وصاحبی،أحدنا عن یمینہ والآخر عن شمالہ، فظننت أن صاحبی سیکل الکلام إلی،فقلت أبا عبد الرحمن! إنہ قد ظھر قبلنا ناس یقرؤون القرآن ویتقفرون العلم، وذکر من شأنھم، وأنھم یزعمون أن لا قدر، وأن الأمر أنف، قال :فإذا لقیت أولئک فأخبرھم أنی بری ء منھم ،وأنھم برآء منی، والذی یحلف بہ عبد ﷲ بن عمر!لوأن لأحدھم مثل أحد ذھبا فأنفقہ ما قبل ﷲ منہ حتی یؤمن بالقدر،ثم قال: حدثنی أبی عمر بن الخطاب …الخ۔ ترجمہ:یحیی بن یعمرفرماتے ہیں :سب سے پہلے تقدیر کا انکار معبد الجہنی نے کیا،جس کا تعلق بصرہ سے تھا۔ میں اور حمید بن عبدالرحمن الحمیری حج یاعمرہ کے ارادے سے گھر سے نکلے،ہم نے راستے میںیہ خواہش کی،کاش مکہ مکرمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ملاقات ہوجائے تاکہ ہم تقدیر کے بارے میں باتیں کرنے والے ان افراد کی بابت سوال کرسکیں، اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہماری مسجدحرام کے اندر عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوگئی،چنانچہ میں نے اورمیرے دوست نے انہیں اپنے پہلو میں لے لیا ،ایک ان کے دائیں طرف اوردوسرا بائیں طرف ہوگیا،میں نے اس یقین کے تحت کہ میرا دوست مجھے ہی گفتگوکرنے کا کہے گا ،بات شروع کی اور کہا: اے ابوعبدالرحمن(عبد اللہ بن عمر کی کنیت)ہمارے علاقے(بصرہ) میں کچھ لوگ ظاہرہوئے ہیں جوقرآن پڑھتے ہیں اور حصولِ علم کے مشتاق ہیں (ان کی شان میں اور بھی باتیں کیں)لیکن ان کا خیال یہ ہے کہ تقدیر کوئی چیز نہیں اور سارے کام ابتداءً ہی رونما ہوتے ہیں (یعنی تقدیرمیں لکھے ہوئے نہیں ہیں)