کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 22
عبد اللہ بن عمرنے فرمایا: جب تم واپس جاکر ان لوگوں سے ملو تو انہیں بتادوکہ عبد اللہ ان سے بری اورلاتعلق ہے اور وہ عبد اللہ سے بری اور لاتعلق ہیں،اس ذات کی قسم جس کی عبد اللہ ہمیشہ قسم کھاتا ہے ان میں سے کسی شخص کے پاس اگر اُحد پہاڑ کے برابر سوناہو اور وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردے تو اللہ تعالیٰ اس وقت تک قبول نہیں فرمائے گا جب تک وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئیں،پھر فرمایا :میرے والد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے …الخ(پھر پوری مذکورہ حدیث بیان فرمائی) حدیث ابن عمر کے علمی فوائد معلوم ہونا چاہئے کہ اس قصہ میں بہت سے علمی فوائد وآداب ہیں، پہلی بات یہ معلوم ہوئی کہ تقدیر کے انکار کا فتنہ دورِ صحابہ میں ظاہر ہوچکا تھا،چنانچہ سب سے پہلے تقدیرکے انکار کافتنہ بصرہ میں ظاہرہوا، اس بدعت کا بانی وموسس معبد الجہنی تھا ۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ تابعینِ عظام کس طرح بڑے بڑے امورکی رہنمائی کیلئے صحابہ کرام کی طرف رجوع کیاکرتے تھے، چنانچہ یحیی بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمن الحمیری جو تقدیر کے بارے میں معبد الجہنی کے نظریات سن کر پریشان تھے نے اس خواہش کا اظہارکیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ملاقات ہوجائے تو اس فتنہ کی بابت ان سے رہنمائی لی جائے ۔ اس سے یہ اہم نکتہ حاصل ہورہا ہے کہ ہرمسلمان کایہ شرعی فریضہ ہے کہ وہ امورِ دین کے سلسلے میں اپنی رائے ظاہر کرنے اور منوانے کی بجائے اہل علم سے رجوع کرے، اللہ تعالیٰ کے فرمان : [ فَسْــَٔـلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ]کا یہی تقاضاہے۔ اس واقعہ سے ایک عظیم الشان نکتہ یہ بھی حاصل ہورہا ہے کہ جو لوگ حج یاعمرہ کے سلسلے میں حرمین شریفین کی طرف عازمِ سفر ہوں تو وہ حج وعمرہ کے ساتھ ساتھ،علماءحرمین سے علمی استفادہ کے مواقع بھی تلاش کرتا رہے ،بالخصوص اگر کسی مسئلہ کے تعلق سے وہ کسی اشکال کا شکار ہو۔