کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 23
چنانچہ اگر بلادِ حرمین میں حج وعمرہ کے ساتھ ساتھ اس کی اعتقادی وعملی مشکلات بھی حل ہوجائیں توا س کایہ سفر مزید مبارک اور نتائج طیبہ کے حصول کا سبب بن جائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (من یرد ﷲ بہ خیرا یفقہہ فی الدین) یعنی: اللہ رب العزت جس شخص کے ساتھ بھلائی کا فیصلہ فرمالے تواسے دین کی سمجھ عطافرماتاہے۔ چنانچہ یہ سفرِ حج وعمرہ جوسراسر خیروبرکت کا سفرہے ،اس میں اگر طلبِ علم کے اسباب بھی مہیاہوجائیں تویہ سفر نورعلی نورکامصداق بن جائے گا۔ خوارج کے ردمیں ایک حدیث اسی طرح کا ایک اور واقعہ ،امام مسلم اپنی صحیح میں لائے ہیں،جس کاذکر فائدہ سے خالی نہ ہوگا، یزید الفقیر فرماتے ہیں: ’’ کسی دور میں میرا میلان خوارج کے ایک عقیدہ کی جانب ہوگیا، میں ایک جماعت کے ہمراہ حج کیلئے نکلا،ہمارا یہ بھی ارادہ تھا کہ اس موقع پر(تفقہ فی الدین کیلئے) اہل علم سے بھی ملاقاتیں کریں گے، ہم مدینہ منورہ میں تھے،ہم نے دیکھا کہ صحابیٔ رسول سیدنا جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہما مسجد نبوی کے ایک ستو ن کے ساتھ ٹیک لگائے درسِ حدیث ارشاد فرمارہے ہیں ،ان کے درس میں اہل جہنم کا ذکر ہوا (ان اہل جہنم کا جو اپنی سزا بھگت کر جہنم سے نکال لئے جائیں گے) میں نے اعتراض وارد کیا اور کہا:آپ یہ کیابیان کررہے ہیں ، اللہ تعالیٰ توفرماتا ہے: [ اِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَہٗ] یعنی :جنہیں تو جہنم میں ڈال دے انہیں تونے رسواکردیا۔ نیز فرماتاہے:[کُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْـرُجُوْا مِنْہَآ اُعِیْدُوْا فِیْہَا ] یعنی: جب جہنمی جہنم سے نکلنا چاہیں گے تو وہ دوبارہ اس میں لوٹادیئے جائیں گے۔(ان