کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 26
منکرینِ قدر کا نظریہ واضح ہو کہ یحیی بن یعمر اورعبید الحمیری نے جناب عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے بصرہ میں ظاہرہونے والی ایک انتہائی قبیح اورخطرناک بدعت کی بابت سوال کیاتھا،یہ بدعت تقدیر کا انکارہے ،جس کا موجد معبدالجہنی تھا،وہ اللہ تعالیٰ کے علمِ سابق کامنکرتھا اور بالتبع کتابتِ تقدیرکا بھی ،اس کانظریہ یہ تھا کہ انسانوں کاہرعمل خواہ اچھا ہو یا برا، ابتداء ًوقوع پذیرہوتاہے اور جب انسان عمل کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے علم میں آتاہے،پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی جزاء یاسزا مرتب ہوتی ہے۔ اہلِ بدعت کے متعلق سلف صالحین کا منہج اسی منحرف عقیدہ کو سن کر جناب عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے اس سے برأت اور لاتعلقی کااعلان فرمایاتھا،جس سے منہجِ سلف عیاں ہوتا ہے کہ وہ اہلِ بدعت سے کسی تعلق یامحبت کوروانہ جانتے تھے،ان کے تعلقات تو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ’’الحب فی ﷲ والبغض فی اللہ‘‘ کے مصداق تھے۔ مگرافسوس آج جو لوگ منہجِ سلف کے امین ہونے کے دعویدار ہیں ان میں سے بیشتر لوگ اس انتہائی اہم منہجی نکتہ سے عمداً یاجہلاً صرفِ نظر کئے ہوئے ہیں۔ کاش یہ لوگ اتنی سی بات سمجھ لیں کہ دین اسلام میں تعلق کی بنیاد اللہ وحدہ لاشریک لہ کی توحید اور سیدالأولین والآخرین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ومحبت ہے ،نہ کہ جاہ ومال اور عصرِ حاضر کی سیاستِ خبیثہ ۔ تقدیر پر ایمان کے مراتب کا ذکر ،شرحِ حدیثِ جبریل کے ضمن میں ہوگا،ان شاء اللہ تعالیٰ۔ جناب عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے ان دونوں تابعین کے سوال کے جواب میں صرف حکمِ مسئلہ کے ذکر پر اکتفاء نہیں کیا ،بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے دلیل بھی پیش کی،اس سے سلف صالحین کا مبارک منہج سامنے آتا ہے،یعنی کسی مسئلہ کے حکم کے ساتھ دلیل بتلانا ضروری ہے اور دلیل اقوالِ رجال یاملفوظاتِ مشایخ کا نام نہیں ،بلکہ اکرم الخلائق محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کانام ہے۔بیشتر اسلام کے دعویدار اس پاکیزہ منہج سے انحراف کاراستہ اپنائے ہوئے ہیں،نتیجۃً گمراہیوں کی دلدل گہری سے گہری ہوتی جارہی ہے۔وﷲ المستعان۔