کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 29
فرشتے بشریت کا روپ دھار سکتے ہیں اس حدیث میں جبرئیل علیہ السلام کا بصورتِ بشر آنا مذکور ہے، جس سے ثابت ہوا کہ ملائکہ بشر کاروپ دھارنے کی قدرت دیئے گئے ہیں، قرآن پاک میں جبرئیل علیہ السلام کا مریم سلام ﷲ علیھا کے پاس بصورتِ بشر، نیز ابراھیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کے پاس بھی بصورتِ بشر جانا مذکور ہے۔ لیکن فرشتے اپنی مرضی سے کسی بشر کی صورت اختیار نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے اذن وامر کے بعد بشر کا روپ دھارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے جنوں کوبھی بشریاسانپ وغیرہ کاروپ دھارنے کا اختیار دے رکھا ہے ،جیسا کہ صحیح بخاری میں حدیثِ ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہوتا ہے۔ جبریل امین اپنی اصل ہیئت میں جبرئیل امین علیہ السلام اپنی اصل شکل وہیئت میں، اللہ تعالیٰ کی بڑی عظیم اورقوی مخلوق ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چھ سوپروں کاذکرفرمایاہے ، جبکہ ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاتھا:میں نے جبرئیل کو دیکھا انہوں نے تمام آفاقِ سماوی کوڈھانپ رکھاتھا۔ حدیث جبرئیل کے مذکورہ بالا متن میں ان کے سلام کہنے کا ذکر نہیں ہے،لیکن ابوداؤد میں بروایت ابوذرغفاری وابوھریرہ رضی اللہ عنہما مروی حدیث میں ان کے سلام کہنے کا ذکرموجودہے،اسی سیاق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب دینے کاذکربھی ہے۔ طالب علم کےچند مزید آداب