کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 32
صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے،گویا امتیوں کی موجودگی میں امین الوحی جبرئیل علیہ السلامبھی ایک سائل بن کر پیش ہونگے،مفتی یامجیب بن کرنہیں۔ یہ ایک ایسا ادب ہے جس کا ہرامتی کے پیشِ نظرہونااوررہنا ضروری ہے،جس طرح ذاتِ رسول کی موجودگی میں کسی کو بات کرنے یا جواب دینے کا حق نہیں ہے (خواہ وہ جبرئیل علیہ السلام ہی کیوں نہ ہوں) اسی طرح فرمانِ رسول کے ہوتے ہوئے بھی کسی کو دوسری بات کہنے یا جواب دینے کا حق حاصل نہیں ہوسکتا، اللہ تعالیٰ کافرمان ذیل اسی حقیقت کامتقاضی وموجب ہے: [یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ] آیتِ کریمہ بڑی صراحت سے، اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے ہونے یاکسی اور کوآگے کرنے کی ممانعت سمجھارہی ہے۔ جوخوش نصیب لوگ یہ نکتہ سمجھ جائیں وہ حقیقی معنی میں فہمِ دین کے عظیم منصب پرفائز ہیں اورجواس نکتہ کے فہم سے عاری ہیں ان کے مقدر میں تقلید کی دلدل میں پھنسے رہنے اوراندھیروں میں ٹھوکریں کھاتے رہنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ [یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ] [وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَہْتَدُوْا] جبریل کا پہلا سوال:اسلام کیا ہے؟ وقال :یا محمد أخبرنی عن الإسلام ،فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :الإسلام أن تشھد أن لا إلہ إلا ﷲ وأن محمدا رسول ﷲ ،وتقیم الصلاۃ ،وتؤتی الزکاۃ،وتصوم رمضان، وتحج البیت إن استطعت إلیہ سبیلا۔ قال: صدقت۔فعجبنا لہ یسألہ ویصدقہ ۔