کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 33
ترجمہ:’’اور کہا: اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم مجھے اسلام کی بابت خبر دیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ کوئی معبودِ حق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے ،اورگواہی دو کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اورنمازقائم کرواورزکاۃ اداکرواور رمضان کے روزے رکھواوربیت اللہ کا حج کرو اگر طاقت ہو۔ اس نے کہا :آپ نے سچ فرمایا۔ہمیں تعجب ہوا کہ یہ شخص خود ہی سوال کررہا ہے اور خود ہی اس کے جواب کی تصدیق کررہاہے۔‘‘ اسلام اور ایمان میں فرق جبرئیل علیہ السلام کا پہلاسوال اسلام کی بابت تھا ،جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند ظاہری امور کا تذکرہ فرمایا (جن کی وضاحت عنقریب آئے گی)جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام چند ظاہری امور کانام ہے، اور جب جبرئیلعلیہ السلامنے ایمان کی بابت پوچھا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند باطنی امورکا ذکرفرمایا (جن کابیان آگے آئے گا)جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایمان چند باطنی امورکانام ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام اورایمان دوایسے کلمات ہیں کہ جب انہیں اکٹھا ذکرکیاجائے گا تو دونوں کے معنی میں فرق ہوگا،جیسا کہ حدیث جبرئیل میں دونوں اکٹھے مذکورہیں،چنانچہ انہوں نے پہلے اسلام کا پھرایمان کا معنی دریافت کیا ،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی علیحدہ علیحدہ تعریف ذکرفرمائی ،اسلام کی تعریف میں پانچ اعمالِ ظاہرہ ذکر فرمائے اورایمان کی تعریف میں چھ اعمالِ باطنہ ذکرفرمائے(جن کا تعلق تصدیق واقرارسے ہے)۔ لیکن یہی دوکلمے جب الگ لگ ذکر ہونگے توہر کلمہ دونوں معانی (یعنی اعمالِ ظاہرہ وباطنہ)کوشامل ہوگا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان میں صرف اسلام کاذکر ہے: [وَمَنْ یَّبْتَـغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَفِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ]