کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 34
یعنی جواسلام کے علاوہ کسی اور دین کوچاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیاجائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔ یہاں اسلام سے مراد صرف وہ پانچ اعمالِ ظاہرہ ہی نہیں ہیں جن کا حدیث ِجبرئیل میں ذکر ہے ،بلکہ یہاں لفظ اسلام پورے دین کو شامل ہے جس میں تمام اعمالِ ظاہرہ اوراعمالِ باطنہ داخل ہیں۔ صرف لفظ ایمان کااستعمال ، اللہ تعالیٰ کے درج ذیل فرمان میں ہے: [وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ ۡوَہُوَفِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ] یعنی جو ایمان کے ساتھ کفرکرے گا اس کے تمام اعمال اکارت جائیں گے اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔ یہاں ایمان سے مراد صرف وہ اعمالِ باطنہ ہی نہیں ہیں جن کا حدیثِ جبرئیل میں ذکر ہے، بلکہ یہاں کلمہ ایمان پورے دین کو شامل ہے ،جس میں ظاہری وباطنی تمام اعمال داخل ہیں۔ اسلام کے بنیادی ارکان جبرئیل علیہ السلام کے سوال :’’اسلام کے بارے میں خبر دیجئے ‘‘ کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ امورکا ذکرفرمایا: 1۔’’لاإلٰہ إلا اللہ ‘‘اور’’ محمدرسول اللہ ‘‘کی گواہی دینا۔ 2 ۔نماز قائم کرنا۔ 3 ۔زکاۃ دینا۔ 4 ۔رمضان کے روزے رکھنا۔ 5۔استطاعت ہوتوبیت اللہ کاحج کرنا۔