کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 37
اس عظیم الشان کلمہ میں مندرج ،نفیٔ عام اوراثباتِ خاص کے اس عقیدہ کی ایسی گواہی مطلوب ہے ،جس میں انسان کا زبان کا اقرار ،قلبی اعتراف اور بقیہ بدن کے تمام اعمال، اللہ رب العزت کی توحید پر قائم ہوںاورکہیں بھی شرک کا شائبہ تک نہ ہو۔ واضح ہو کہ کلمہ(لاإلٰہ إلا ﷲ)میں،’’لا‘‘نفیٔ جنس ہے ،اور کلام میں جب یہ ’’لا‘‘آئے گا تواس کے اسم اورخبر دونوں کاہوناضروری ہے،اس جملہ میں إلٰہ ’’لا‘‘کا اسم ہے،جبکہ اس کی خبر محذوف ہے ،جو کہ’’حَقٌّ‘‘ ہے،تقدیر جملہ یوں ہوئی ’’لاإلٰہ حق إلاللہ ‘‘اس کامعنی یہ ہوگا کہ کوئی حق معبود نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ۔ گویا یہ کلمہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ دیگر معبودوں کے موجود ہونے کی نفی نہیں کررہا بلکہ حق معبودوں کی نفی کررہا ہے،گویا اس کائنات میں مشرکین نے مختلف معبود بنارکھے ہیں،مگر ان میں سے کوئی معبود حق نہیں ہے بلکہ سب کے سب باطل ہیں،معبودِ حق صرف اللہ رب العزت ہے۔یہ معنی قرآنِ حکیم نے ذکر فرمایاہے: [ذٰلِکَ بِاَنَّ اللہَ ہُوَالْحَقُّ وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ہُوَالْبَاطِلُ] یعنی: بے شک اللہ تعالیٰ ہی معبودِ حق ہے اور جن جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ اس آیت ِمبارکہ میں قرآنِ پاک نے معبودانِ باطلہ کے موجود ہونے کا انکار نہیں کیا بلکہ ان کے حق ہونے کا انکار کیا ہے۔ ہماری اس تقریر سے ان لوگوں کا ردہوتا ہے جو’’لا‘‘کی خبرِ محذوف’’مَوْجُوْدٌ‘‘ قرار دیتے ہیں؛ کیونکہ معبودانِ باطلہ بکثرت موجود ہیں،لہذا موجود کی تقدیر نافع نہ ہوگی،اصل مقصود تو ان موجود معبودوں کا ابطال ہے ،جوکہ’’حَقٌّ‘‘ کی تقدیر سے حاصل ہوگا اور سورۃ الحج کی مذکورہ آیت اس پرواضح دلیل ہے۔