کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 38
’’محمد رسول اللہ‘‘ کی گواہی اتباع کے بغیر مشکوک ہے (محمدرسول ﷲ) اسلام میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ ہونے کی گواہی ضروری ہے۔یہاں بھی شہادت کاوہی مفہوم ہے جو کلمہ (لاإلٰہ إلاللہ ) کی شہادت کے ضمن میں ذکرہوچکاہے،چنانچہ (محمدرسول ﷲ) کاصرف زبانی اقرار کافی نہیں ہے ،بلکہ دل سے اعتراف اورشہادت بھی ضروری ہے، اس کے بعد انسان کے عمل میں بھی اس گواہی کا رنگ نمایاں دکھائی دے،اور وہ اس طرح کہ ہرعمل میں اس شخصیت کی اتباع کا رنگ نمایاں نظر آئے،جس کے رسول اللہ ہونے کا اقراربھی کیا ہے اور دل سے اعتراف بھی۔ اگر عقیدہ وعمل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع مفقود یامتروک ہے،تو انہیں رسول اللہ ماننے کا معاملہ مشکوک دکھائی دے گا ۔ قرآنِ حکیم نے تشکیلِ رسالت کا اصل مقصد اطاعت قرار دیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: [وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِـاِذْنِ اللہِ] یعنی ہم نے آپ سے قبل جتنے بھی رسول بھیجے سواسی مقصد کیلئے کہ ان کی اللہ کے حکم سے اطاعت کی جائے۔ اس لئے قرآنِ مجید میں جابجا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کاحکم دیاگیا ہے،بلکہ ایک مقام پر آپ کی اطاعت کو ہدایت کی شرط کے طور پر ذکر کیاگیاہے،یعنی اگر آپ کی اطاعت ہوگی تو ہدایت ہے ورنہ گمراہی۔