کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 39
[وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَہْتَدُوْا] قبولِ عمل میں بھی بنیادی شرط یہی ہے کہ وہ آپ کی اطاعت کے دائرے میں ہو،فرمان ہے : [یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ] اے ایمان والو!اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور اپنے اعمال برباد نہ کرو۔ نتیجہ بالکل واضح ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت،اگر عمل کے ساتھ موجود ہے تو وہ عمل مقبول ہے،اوراگر مفقود ہے تو وہ عمل مردود ہے۔ یہی نکتہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مندرجہ ذیل دواحادیث سے حاصل ہوتاہے : (۱) من احدث فی أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد . یعنی:جوہمارے دین میں کوئی نیاعمل جاری کرے گا وہ مردود ہوگا۔ (۲) من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھو رد . یعنی:جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہماراامرنہ ہو تو وہ مردود ہوگا۔ ایک باطل فکر کی تردید واضح ہو کہ بعض لوگ جوشریعت کی روح اور سنت کی خوشبوسے محروم ہے یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ قبولِ عمل کیلئے صرف عمل کرنے والے کی سچی طلب اوراچھی نیت ہی کافی ہے ،لیکن یہ ایک محض بے کار سی سوچ ہے ،جس میں مچھر کے پر کے برابربھی وزن نہیں ہے۔