کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 41
قال: فعدوا سیئاتکم فأنا ضامن أن لا یضیع من حسناتکم شیٔ، ویحکم یا أمۃ محمد! ماأسرع ھلکتکم! ھؤلاء صحابۃ نبیکم صلی اللہ علیہ وسلم متوافرون، وھذہ ثیابہ لم تبل، وآنیتہ لم تکسر،والذی نفسی بیدہ! إنکم لعلی ملۃ ھی أھدی من ملۃ محمدصلی اللہ علیہ وسلم أو مفتتحوباب ضلالۃ؟! قالوا: وﷲ یا أبا عبدالرحمن !ما أردنا إلا الخیر، قال: وکم من مرید للخیر لن یصیبہ ترجمہ:صحابیٔ رسول عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں کھڑے ہوکر کچھ لوگوں کا عمل دیکھ رہے تھے،جو حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے کنکریاں رکھی ہوئی تھیں،ایک شخص بآوازِ بلند کہتا :سوبار اللہ اکبر کہو ،تولوگ سوبار اللہ اکبر کہتے پھر وہ کہتا :سوبار لاإلٰہ إلا اللہ کہو،تولوگ سوبارلاإلٰہ إلا اللہ کہتے،پھر وہ کہتا: سودفعہ سبحان اللہ کہو،تولوگ سودفعہ سبحان اللہ کہتے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :یہ تم کیا کرتے دکھائی دے رہے ہو؟انہوں نے جواب دیا اے ابوعبدالرحمن ہم ان کنکریوں پر تکبیر ،تہلیل اورتسبیح شمارکررہے ہیں۔ جناب عبد اللہ نے فرمایا :بہترہے کہ تم اس کی جگہ اپنے گناہ شمار کرو جس پر میں ضمانت دینے کیلئے تیار ہوں کہ تمہارے کوئی نیکی ضائع نہ ہوگی۔ اے امتِ محمدصلی اللہ علیہ وسلم !تم پر افسوس تم کس قدر جلدی برباد ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بکثرت موجودہیں، ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے تک بوسیدہ نہیں ہوئے اور برتن تک نہیں ٹوٹے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یاتوتم ایک ایسے طریقے پر قائم ہوچکے ہوجو محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے افضل اور زیادہ ہدایت یافتہ ہے اوریاپھر تم نے گمراہی کا دروازہ کھول دیا ہے۔ انہوں نے کہا :اے ابوعبدالرحمن ! اللہ کی قسم ہماری نیت اورطلب خیرکے علاوہ کچھ نہیں، جناب عبد اللہ بن مسعود نے جواب دیا: کتنے ہی لوگ ہیں جن کی نیت اورطلب خیر ہوتی ہے،مگر