کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 42
خیر انہیں ہرگز نصیب نہیں ہوتی۔(سنن دارمی ۱/۶۸-۶۹اس اثر کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ (۲۰۰۵) میں وارد کیا ہے) حضرات !آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ صحابیٔ رسول جناب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی سچی اور نیک طلب والی بات کو کس طرح رد فرمادیا،وجہ یہ تھی کہ ان کا یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ مبارکہ سے ثابت نہیں تھا،جس سے واضح ہواکہ ایک شخص کی طلب کتنی ہی نیک کیوں نہ ہو لیکن اگر اس کاعمل مصطفی علیہ السلام کے طریقہ کے خلاف ہے تو وہ قطعی مردود اورناقابل قبول ہے۔ ’’محمدرسول اللہ‘‘ کی گواہی کاتقاضا (أشھد أن محمدا رسول ﷲ) محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ ہونے کی گواہی،ہم سے بہت سے امور کا تقاضاکرتی ہے،مگر یہ مقامِ تأسف ہے کہ جس قدر ان امورکی معرفت کی ضرورت واہمیت ہے، اسی قدر لوگ غفلت یا تغافل کاشکارہیں۔ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان امورکی تعمیل وتکمیل کے بغیر تعلق بالرسول کے تمام دعاوی کھوکھلے اورلایعنی ہیں۔و اللہ المستعان ہم اتمامِ حجت کیلئے ان امور کابیان ضروری سمجھتے ہیں،لہذا پیشِ خدمت کئے دیتے ہیں ۔شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ ’’ شرح الأربعین النوویۃ‘‘ میں اسی مقام پر ان امور کا تذکرہ فرماتے ہیں،جس کی تلخیص عرضِ خدمت ہے: ’’محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ کی شہادت بہت سے امور کومستلزم ہے، (جن کے بغیریہ شہادت قطعی غیر معتبر اورنامکمل تصور ہوگی) 1۔ضروری ہے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ ہر امرونہی اور ذکر کردہ ہرخبر کو سچاجان کر اس کی تصدیق کی جائے ،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: