کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 43
[اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ] بلاشبہ وہ (محمدصلی اللہ علیہ وسلم ) حق ہیں بالکل ویسے جیسے تم باتیں کرتے ہو۔ لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی صرف اسی صورت قابلِ قبول متصور ہوگی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فرمان میں کسی قسم کا شک یا تردد نہ ہوگا۔البتہ یہ ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان صحتِ سند کے ساتھ ثابت ہو،دریں صورت اس کی تصدیق کرنا فرض ہوگا،خواہ اس کی توجیہ یاتعلیل سمجھ میں آئے یانہ آئے۔ 2 ۔ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہرامر کا امتثال واتباع، بلا ریب وتردد موجود وقائم رہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ یَّکُوْنَ لَہُمُ الْخِـیَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ] یعنی کسی مؤمن مرد یاعورت کے لائق نہیں ہے کہ اللہ اور اس کارسول (صلی اللہ علیہ وسلم )کوئی فیصلہ صادر کردیں اور وہ اپنی پسندلئے بیٹھے رہیں۔ ہم توکہتے ہیں کہ یہ بھی غلط ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آمدہ کسی امرکوسن کر یہ پوچھا جائے کہ یہ وجوب کیلئے ہے یااستحباب کیلئے؟ کیا کبھی کسی صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امر کو سن کر یہ سوال کیاکہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا یہ امر برائے وجوب ہے یا استحباب ؟کبھی نہیں۔ وہ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فرمان کو حق وصدق جانتے ہو ئے اس کے امتثال واتباع پر مستعد رہتے ۔ ہم بھی یہی دعوت لوگوں کو پیش کرناچاہتے ہیں کہ جب آپ نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی