کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 44
دے دی تو اب کسی بھی حدیث کے پہنچنے کے بعد ایسا سوال نہ کرو کہ یہ برائے وجوب ہے یا استحباب؟یا یہ قولِ امام کے موافق ہے یا مخالف؟یا یہ برادری کے رسوم ورواج کے مطابق ہے یامعاکس؟ البتہ اگر کسی انسان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امر کے ترک کی کوتاہی سرزد ہوگئی تواب وہ یہ سوال کرسکتا ہے کہ میںجوامر چھوڑ بیٹھا وہ برائے وجوب تھا یااستحباب ؟تاکہ اگر برائے وجوب تھا تواس پر توبہ کرسکوں۔ منکرین حدیث کی تردید 3 ۔ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جس چیز کی نہی وارد ہو اس سے کلیۃً احتراز اور اجتناب کرے،اور اس میں کسی قسم کا کوئی تردد کارفرما نہ ہو،جیسا کہ کچھ لوگ اپنی جان چھڑانے کیلئے یہ بہانہ تراشتے ہیں کہ یہ چیز حدیث میں توہے مگر قرآن مجید میں نہیں ہے۔ ان لوگوں پر واضح ہونا چاہئے کہ حدیث میں جوامرونہی وارد ہے اس کی اتباع کا حکم قرآن ہی نے تودیا ہے،کما فی قولہ تعالیٰ: [وَمَآ اٰتٰیکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ ۤ وَمَا نَہٰیکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا] اور جو تمہیں رسول دے وہ لے لو اور جس چیز سے روکے اس سے باز آجاؤ۔ اس قماش کے لوگوں کی خبر ایک حدیث میں موجود ہے ،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادِ مبارک ہے: (لاألفین احدکم علی أریکتہ یأتیہ الأمر من عندی فیقول ماأدری ماکان فی کتاب ﷲ اتبعناہ )