کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 45
یعنی میں تم میں ایساشخص نہ دیکھوں جو انتہائی تکبر کے ساتھ اپنے تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھا ہو،اس کے پاس میرا کوئی امر(حدیث) آئے،اور وہ بڑی ڈھٹائی سے یہ کہہ کر حدیث کر رد کردے کہ میں نہیں جانتا میں تو صرف جوکتاب اللہ میں ہے اس کی اتباع کرونگا۔ ایسا جہلاء کو یہ بات معلوم نہیں کہ ہر وہ بات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آئے وہ قرآن ہی میں مذکور ہے؛کیونکہ ہمیں (واتبعوہ) کہہ کر قرآن ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل پیروی کامکلف ٹھہرایاہے۔ 4۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت کے تعلق سے ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ گرامیٔ قدرپر کسی بشر خواہ وہ کوئی بھی ہو،کا قول مقدم نہ کرے،کوئی بڑے سے بڑا امام یہ مقام نہیں رکھتا کہ اس کے قول کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر مقدم کیاجائے۔ کیونکہ تم اور تمہارا امام اور دنیا کا ہرانسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا پابند ہے۔ [یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ] کسی شخص کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث پیش کی جائے اور وہ جواب میں کہے کہ میرے فلاں امام کاقول تو اس کے خلاف ہے،یہ بات کتنی افسوس ناک اورہیبتناک ہے ،تمام مخلوقات میں کوئی ایسا شخص نہیں جس کے قول کا سیدالانبیاء والمرسلین کے فرمان سے معارضہ کیاجائے۔ حدیث کے مقابل قول امام پیش کرنیوالوں کیلئے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی وعید اسی لئے ایک موقع پر جب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے لوگوں کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پیش کی اورلوگوں نے شیخین یعنی ابوبکر وعمررضی اللہ عنہما کے قول سے معارضہ کرنا چاہا تو عبد اللہ بن