کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 46
عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : (یوشک ان تنزل علیکم حجارۃ من السماء أقول قال رسول ﷲ وتقولون قال ابوبکر وعمر) یعنی عنقریب تم پر آسمان سے پتھر برس سکتے ہیں میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے اور تم جواب دیتے ہو کہ اس بارے میں ابوبکروعمر نے یوں کہاہے۔ غورکیجئے جن اماموں کی لوگ باتیں کرتے ہیں اور ان کے اقوال، احادیثِ رسول سے مقدم کرتے ہیں،بھلا ان کی سیدناابوبکر صدیق اورسیدناعمرفاروقرضی اللہ عنہما سے کیا نسبت ہے؟ 5۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت کا ایک لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ کے بیان کردہ دین میں کوئی اضافہ نہ کرے،خواہ وہ اضافہ عقیدہ میں ہو یا عمل میں یا قول میں۔ ایسا ہر اضافہ بدعت کہلا تاہے اور فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بموجب ہربدعت گمراہی ہے اور ہرگمراہی جہنم میں ہے۔ بدعتی کوئی بھی ہو اس نے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کو پامال کردیا؛کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں وہ چیز داخل کردی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان نہیں فرمائی۔ایسے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حسنِ ادب کے تقاضے کیاپورے کرسکیں گے۔ 6۔جس طرح یہ ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں کسی نئی چیز کو داخل یا شامل نہ کیاجائے، اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کسی نئی چیز کو داخل یا شامل نہ کیاجائے۔ چنانچہ جولوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ ولادت کی مناسبت سے مختلف مجالس یا احتفالاتِ میلادکا انعقاد کرتے ہیں،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے ایک اضافہ متصور ہوگا ۔ توجولوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں اپنی مرضی سے اضافہ کے