کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 47
مرتکب ہوتے ہیں وہ (محمدرسول اللہ )کی شہادت میں صادق ہوسکتے ہیں؟ (محمدرسول ﷲ)کی شہادت کا ایک لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ آپ کیلئے ربوبیت میں سے کوئی حصہ نہیں ہے،چنانچہ نہ تو آپ کو پکاراجائے نہ آپ سے استغاثہ کیاجائے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ البتہ اپنی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوچیز دینے پر قادر ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب کی جاسکتی ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی تقاضا ہے[قُلْ لَّآ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاءَ اللہُ] کہہ دیجئے میں اپنے نفس کیلئے کسی نفع یانقصان کامالک نہیں ہوں مگر جو اللہ تعالیٰ چاہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے کا حکم دیا ہے :[قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا۔ قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللہِ اَحَدٌ ۥۙ وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا] کہہ د یجئے میں تمہارے لئے کسی نقصان یا بھلائی کا مالک نہیں ہوں اورکہہ دیجئے مجھے اللہ تعالیٰ سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا نہ میں اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ پاتاہوں۔ ان نصوص سے ان لوگوں کی گمراہی آشکارہ ہوتی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوپکارتے ہیں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغاثہ کرتے ہیں۔ اولاً تو یہ دعا یااستغاثہ ان کیلئے بالکل نافع نہیں ہوسکتا،ثانیاً ان پر شرک کاحکم منطبق ہوجائے گا، اورمعلوم ہے کہ شرک ظلمِ عظیم ہے جس کی قطعاً کوئی بخشش نہیں ہے ۔ (محمدرسول ﷲ) کی شہادت کا ایک لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ کا احترام کیاجائے ،یہ احترام اس قدر ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی آواز میں