کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 48
بات کرنابھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے(چہ جائیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر کسی کی بات کو مقدم یاراجح قراردے لیا جائے۔) اسی احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے امیرالمؤمنین سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ یہ بھی گوارہ نہ فرماتے کہ کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مبارک کے پاس اونچی آواز سے بات کرے،چنانچہ امیر المؤمنین نے دو افراد کو جوکہ طائف سے آئے تھے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِ مبارک کے پاس کھڑے اونچی آواز سے گفتگو کرتے سنا توفرمایا :(لولا أنکما من أھل الطائف لأوجعتکما ضربا)یعنی اگر تم طائف سے نہ آئے ہوتے تو آج میں تمہاری ٹھکائی کردیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے احترام کا یہ لازمی تقاضا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ماخوذ ہے: [یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْـہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَــہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ] یعنی اے ایمان والواپنی آوازیں نبی کی آواز سے اونچی نہ کرو اور نہ آپ سے اونچی آواز سے باتیں کرو جس طرح کہ تم آپس میں کرتے ہو ایسا نہ ہو کہ تمہارے تمام عمل اکارت چلے جائیں اورتمہیں احساس تک نہ ہو۔ احترامِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عظیم الشان واقعہ صحابہ کرام کی سیرت میں اس احترام کے مظاہر ثابت ہیں،چنانچہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خطیب ہونے کا شرف حاصل ہے اور جن کی آواز بہت بلند تھی،اس آیتِ مبارکہ کے نزول کے بعد اپنے گھر بیٹھ گئے اور دن رات روناشروع کردیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اپنے صحابہ کی نماز میں موجودگی چیک کیا کرتے تھے، ثابت بن قیس کو کئی روز موجود نہ پاکر اس کے متعلق پوچھتے ہیں ،صحابہ نے جواب دیا کہ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد سے وہ اپنے گھر میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں اورمسلسل رورہے ہیں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤانہیں لیکر آؤ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر وہ آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مایبکیک یاثابت ؟)اے ثابت تم کیوں روتے ہو،ثابت نے جواب دیا:چونکہ میری آواز سب سے اونچی ہے تومجھے خدشہ ہے کہ یہ آیتِ کریمہ میرے ہی بارے میں نازل ہو ئی ہے،اور اس آیت کے آخر میں یہ بیان ہے کہ تمہاری تمام نیکیاں برباد ہوسکتی ہیں اورتمہیں اس کا علم بھی نہیں ہونے پائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس کو تسلی دی اوراس موقع پر یہ بھی فرمایا: (أما ترضی أن تعیش حمیدا وتقتل شھیدا وتدخل الجنۃ)کیا تمہیں یہ بات جان کر خوشی نہ ہوگی کہ تم قابل تعریف زندگی گذاروگے اور شہادت کی موت پاؤگے اورقیامت کے دن جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔(انتہیٰ کلامہ ملخصاً)