کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 50
موجود ہے، پھر اس اتباع پر عقیدۃً وعملاً ودعوۃً اس طرح قائم ہیں کہ کسی قسم کی بدعت یا اہل بدعت سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہے ۔ ان شاء اللہ یہ منہجِ صافی سعادتِ دارین کا سبب بنے گا اور قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک حوض پر ورود کا ذریعہ ہوگا؛کیونکہ حوضِ کوثر سے اہل بدعت کو دھتکار دیاجائے گا۔اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم صاف فرمادینگے :سحقا سحقا لمن غیر بعدی۔میرے بعد میرے دین میں بدعات داخل کرکے تبدیلیاں کرنے والوں کو مجھ سے دورکردیاجائے۔و اللہ المستعان ۔ ’’محمد رسول اللہ‘‘ کی گواہی کے چند مزید تقاضوں کابیان واضح ہو کہ( محمدرسول ﷲ) کی شہادت کے چند مزید لازمی تقاضوںکاذکر ضروری ہے، جنہیں ہم سابقہ ترقیم کے تسلسل کے ساتھ ذکر کرتے ہیں : 9۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی شہادت دینے والوں پر ضروری ہے کہ وہ جب بھی کسی اختلاف یاتنازعہ کے بھنور میں پھنس جائیں توخاتمہ اختلاف کیلئے ان کامرجع صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں کوئی دوسرا نہ ہوخواہ وہ کتنا بڑا امام یامحدث یافقیہ ہو۔ افسوس ہے کہ لوگوں کی اکثریت اوربالخصوص اصحابِ مذاہب اس نکتہ پر توجہ نہیں دیتے حالانکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کا وہ امر ہے جس کی پیروی یا عدمِ پیروی کے ساتھ ایمان یاکفرکو مربوط کیاگیاہے۔ [فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ] پس اگر تم کسی شیٔ میں اختلا ف کربیٹھو تواسے اللہ اوررسول کی طرف لوٹادواگر تم اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔