کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 53
اسلام کادوسرا رکن:اقامتِ صلاۃ دوسرا رکنِ اسلام (وتقیم الصلاۃ) کے الفاظ سے مذکور ہے، جس کامعنی:نماز (سیدھی کرکے درست طریقہ سے )قائم کرنا ہے۔ نماز کی اہمیت توحیدورسالت کی گواہی کے ذکر کے بعد،نماز کاذکر،اس کی اہمیت کی انتہائی بین دلیل ہے۔اسی لئے ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے(عمود الاسلام) فرمایاہے،(عماد الدین) کے الفاظ بھی وارد ہیں،عماد یا عمود سے مراد خیمے کا وہ ستون ہے،جو وسطِ خیمہ میں نصب ہوکر پورے خیمے کو اٹھائے رکھتاہے،جس کے گرنے سے،خیمہ منہدم ہوجاتاہے ۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازکو مسلم اور کافر کے مابین فرق اورتمیز کی اساس قرار دیا ہے۔ایک اورحدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا ہے کہ احکامِ دین میں،نماز سب سے آخر میں مفقود ہوگی،جبکہ ایک اورحدیث کے مطابق ،قیامت کے دن اعمال میں سب سے پہلے نماز کاحسب لیاجائے گا۔ نماز کی اہمیت کیلئے یہی بات انتہائی کافی اور شافی ہے کہ امام الانبیاء محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دنیا سے رحلت فرمارہے تھے تو آپ کی زبانِ مبارک پر یہ الفاظ تھے:(الصلاۃ وماملکت أیمانکم) یعنی: نماز قائم رکھنا اور اپنے غلاموں کا خیال رکھنا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جانکنی کا عالم تھا اور آپ کے ہونٹوں پر یہ الفاظ جاری تھے:(الصلاۃ وما ملکت أیمانکم) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ادا ہونے والاآخری جملہ یہی تھا:(الصلاۃ وما ملکت أیمانکم)