کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 54
یہ بات بھی اہمیت ِنماز کی زبردست دلیل ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے معراج کی رات،اپنے رسول کو آسمانوں پر بلاکر فرض فرمایا، یہ تمیز کسی اور فریضہ کو حاصل نہیں ہے ۔ روزِ قیامت جب جہنمیوں سے ان کے جہنم میں جانے کا سبب معلوم کیاجائے گا تو وہ کہیں گے : [قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ] یعنی: ہم نمازیوں میں سے نہیں تھے۔ تبھی تو قرآن نے مؤمنین کا پہلا وصف،ادائیگی ٔ نماز ذکر فرمایا ہے: [قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ] یعنی:مومنین فلاح پاگئے ،وہ لوگ جو اپنی نمازوںمیں خشوع وخضوع اختیار کرنے والے ہیں،بلکہ اس سیاق میں آخری وصف بھی حفاظت ِ نماز ہے فرمایا: [وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ] یعنی: مومن وہ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ سورہ (المؤمنون) کامقام ہے ،جبکہ سورہ (المعارج) میں بھی اسی اسلوب سے نماز کاتذکرہ کیاگیاہے۔چنانچہ ان لوگوں کے اوصاف ذکرکئے گئے جوجہنم سے محفوظ رہیں گے ،پہلاوصف: [اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ ۙ الَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ دَاۗیِٕمُوْنَ]