کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 55
یعنی: سوائے نمازیوں کے ، جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی اختیار کرتے ہیں۔ سورہ (المعارج ) کے اسی سیاق کے آخر میں فرمایا: [وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَاتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ] یعنی: مومن وہ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ گویا متقین کے اوصاف کے تذکرہ میں پہلاوصف، حفاظت ِنماز اورآخری وصف بھی، حفاظتِ نماز ذکرہے،جویقینا نماز کی اہمیت کی دلیل ہے۔ آدابِ نمازجن کالحاظ رکھنا انتہائی ضروری ہے اس اہمیت کا تقاضہ یہ ہے کہ ادائیگیٔ نمازمیں اُن تمام امور کا مکمل لحاظ رکھا جائے،جن کی شریعت میں تاکید وارد ہے،مثلاً: ادائیگیٔ نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی اتباع،حفاظتِ اخلاص،حفاظتِ اوقات،باجماعت اداکرنا،حضورِ قلبی اورخشوع وخضوع کا مظاہرہ وغیرہ۔ جہاں تک ادائیگیٔ نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقۂ مبارکہ کے امتثال واتباع کاتعلق ہے تویہ نکتہ انتہائی اہم اورضروری ہے،جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: [حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی۰ۤ وَقُوْمُوْا لِلہِ قٰنِتِیْنَ فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا۰ۚ فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْکُرُوا اللہَ کَـمَا عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ] یعنی:حفاظت کرونمازوں کی اور(بالخصوص)نماز عصر کی اور کھڑے ہوجاؤ اللہ کیلئے فرمانبرداری کرتے ہوئے،اگر تم پر خوف کی کیفیت طاری ہو تونمازپڑھوچلتے ہوئے یا سوار ،پھر جب تم امن میں آجاؤتو ذکرکرو اللہ کا (یعنی نمازپڑھو)جس طرح اس نے تمہیں سکھادیا ہے ،وہ جوتم نہیں جانتے تھے)