کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 57
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک بزرگ کو نمازپڑھتے ہوئے دیکھا، پوچھا :(منذ کم تصلی ھذہ الصلاۃ؟)یعنی:یہ نماز کم سے پڑھ رہے ہو؟ اس نے جواب دیا:چالیس سال سے ،فرمایا: (ماصلیت) تم نے (چالیس سال سے)کوئی نمازنہیں پڑھی۔مزید فرمایا:(لومت علی ھذا لمت علی غیرفطرۃ محمدصلی اللہ علیہ وسلم )یعنی:اگر یہی نماز پڑھتے پڑھتے تمہاری موت آگئی تووہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر نہیں ہوگی۔ یہ تمام نصوص اس امر کے مقتضی ہیں کہ نماز ،جودین اسلام کا ستون ہے اور جس کی بابت روزِ قیامت سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کو حساب دینا ہے کی حفاظت،صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے اتباع کے ذریعے ہی ممکن ہے،اس سلسلے میں کسی امام ومرشد یاباپ دادوں کے طریقہ کی پیروی قطعاً کام نہیں آئے گی،کتب ِ فقہ کے وہ مسائل جو کتاب وسنت سے متصادم ہیں،بری طرح ناکام ہیں اور اپنے پیروکاروں کو ناکامی کی انتہائی خطرناک دلدل میں دھکیل دینے والے ہیں۔ والعیاذ باللہ ۔ حضرات!ادائیگیٔ نماز بلکہ ہرعمل کی قبولیت میں اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتہائی اہم کردار ہے، دوسرا اہم کردار حفاظتِ نیت یعنی اللہ تعالیٰ کیلئے اخلاص پیداکرناہے؛لقولہ تعالیٰ: [وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِــیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ] یعنی:(تمام اولین وآخرین کو )صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (إنما الاعمال بالنیات وإنما لکل امریٔ مانوی....)