کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 60
نماز باجماعت کی اہمیت اس بات سے بھی اجاگر ہوتی ہے کہ میدانِ جہاد میں جہاں دشمن سامنے کھڑا ہے اور اس کاحملہ آورہونا متوقع ہے،اورجسے شریعت نے حالتِ خوف مانا ہے،وہاں بھی جماعت قائم کرنے کاحکم ہے(جس کی متعدد صورتیں احادیث میں واردہیں)حالت ِخوف میں جماعت سے نماز پڑھنے کاحکم قرآن میں مذکورہے: [وَاِذَا کُنْتَ فِیْہِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَایِٕفَۃٌ مِّنْھُمْ مَّعَکَ ] نمازوں کیلئے وقت کی پابندی کی اہمیت ادائیگیٔ نماز کیلئے وقت کی پابندی بھی ضروری ہے؛لقولہ تعالیٰ: [اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتٰبًا مَّوْقُوْتًا] بے شک نماز مؤمنین پر مقررہ اوقات میں اداکرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ،جبکہ آپ سے سب سے افضل عمل کی بابت پوچھاگیا، تو ارشاد فرمایا:(الصلاۃ لوقتھا)یعنی وقت پر نماز پڑھنا۔ایک حدیث میں ( لأول وقتھا )بھی وارد ہے، یعنی اول وقت میں نماز اداکرنا سب سے افضل عمل ہے۔ فرضیت ِنماز کے فوراً بعد جبریل امین علیہ السلامنے تشریف لاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہرنمازکے اول اورآخروقت کی تعلیم دے دی تھی ،تفصیلات کتب ِ حدیث میں موجود ہیں،انہیں پڑھ کر ہرنماز کے وقت کی حفاظت کی جائے،بلکہ ہرنماز کو اس کے اول وقت میں اداکرنے کی کوشش کی جائے۔