کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 61
احادیث مبارکہ سے ہرنماز کے اول وقت کی کوئی نہ کوئی اہمیت و فضیلت ثابت ہے ،علی سبیل المثال،فجراور عصر کے وقت کے تعلق سے، احادیث ملاحظہ کرلی جائیں،ایک اہم ترین فضیلت کی ہم نشاندہی کئے دیتے ہیں،اور وہ یہ کہ یہ دونوں اوقات،رات اور دن کے فرشتوں کی ڈیوٹیوں کی تبدیلی کے ہیں ،دن کی ڈیوٹی پر مأمور فرشتے ،فجر کے وقت حاضر ہوتے اور عصر کے وقت اپنے رب کی طرف لوٹتے ہیں،اور رات کی ڈیوٹی پر مأمور فرشتے ،عصر کے وقت حاضر ہوتے ہیں اور فجر کے وقت، اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں کی ان دونوں جماعتوں سے پوچھتا ہے :(کیف ترکتم عبادی؟)تم میرے بندوںکوکس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟فرشتے جواب دیتے ہیں:(أتیناھم وھم یصلون وترکناھم وھم یصلون)جب ہم ان کے پاس گئے تھے تو وہ نماز اداکررہے تھے اور جب ہم انہیں چھوڑ کرآئے تو اس وقت بھی وہ نماز اداکررہے تھے۔ اسی طرح نماز ِظہر،اس کے اول وقت میں اداکرنے کی اہمیت یہ ہے کہ زوالِ آفتاب کے فوراً بعد آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ لہذا نمازِ ظہر کی اول وقت میں ادائیگی،ان دروازوں سے نزولِ رحمت کا سبب بنے گی۔ نماز میں خشوع وخضوع کی اہمیت وتاکید شریعت نے نماز کے تعلق سے توجہ اورحضورِ قلبی کی تلقین بھی فرمائی ہے،نیز خشوع وخضوع کی حفاظت کی تاکید بھی وارد ہے اورفضیلت بھی: قال اللہ تعالیٰ: [قَدْاَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ]