کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 64
مسنون طریقہ سے مسلسل اداہونے والایہ عمل،ہمارے ظاہر وباطن کو معصیتوں کی کالک سے یوں پاک وصاف کردے گا،جیسے کوئی شخص دن میں پانچ بار نہر کے شفاف پانی سے غسل کرے ۔ کیا ہم اس عمل کو ضائع کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں ؟کیا ہم محض ذاتی فرقہ واریت یا آباء و اجداد کی محبت کی خاطر ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقۂ مبارکہ سے روگردانی کرکے،اُن کے طریقوں کو اپناکر اپنی نمازوں کو برباد کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں؟و اللہ ولی التوفیق۔ نمازوں میں غفلت برتنے والوں کیلئے شدید ترین قرآنی وعید جس شریعت نے صحیح طریقہ سے نماز کی ادائیگی کے فضائل ومحاسن کا انبار لگادیا ہے،اسی شریعت نے اسی نماز کی بناء پر یہ مژدئہ روح فرسا سنا دیا ہے : [فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ ۔ الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ ۔ الَّذِیْنَ ہُمْ یُرَاۗءُوْنَ] یعنی:بربادی ہو بعض نمازیوں کیلئے،جو اپنی نمازوں سے غفلت کا شکار ہیں،جو دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں ۔ غفلت ،ترکِ نماز کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے اور اس کا دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ نمازیں تو اداکرتے ہیں ،لیکن مصطفی علیہ الصلاۃ والسلام کے طریقۂ مبارکہ سے غافل یا متغافل ہیں، اس قدر کہ غیروں کے طریقوں کو اپنے نبی کے طریقہ پر ترجیح دیتے ہیں۔ولاحول ولاقوۃ الاب اللہ ۔