کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 65
اسلام کا تیسرا رکن،ادائیگیٔ زکاۃ اسلام کا تیسرا رکن (وتؤتی الزکاۃ)یعنی : زکوٰۃاداکرناہے۔ زکوٰۃ سے مراد یہ ہے کہ ہروہ مال جسے شریعت نے ادائیگیٔ زکوٰۃ کیلئے منتخب کیاہے،اس میں سے مقررہ حصہ مستحقین کو ادا کردیا جائے ، یعنی شریعت مطہرہ نے جس مال کا جوحصہ بطورِ ادائیگیٔ زکوٰۃ فرض کیا ہے وہ پوری امانت داری کے ساتھ کسی کمی کے بغیراداکردیاجائے۔ یوں بھی کہاجاسکتاہے کہ مالداروں کے مال میں سے،فقراء کا حصہ زکوٰۃ کہلاتاہے ۔ زکاۃ کن اموال میں فرض ہے جن اموال میں سے زکوٰۃ اداکرنا فرض قرار دیا گیا ہے،ان کی چار اقسام ہیں: 1۔نقدی: اس سے مراد سونا،چاندی یاان کے قائم مقام چیزیں ہیں،مثلاً:کرنسی،خواہ وہ نوٹوں کی شکل میں ہویاسکوں وغیرہ کی۔ 2۔چوپائے،مثلاً:اونٹ،گائے اوربکری ۔ 3۔زمین کی پیداوار،مثلاً:پھل یااناج وغیرہ۔ 4۔سامانِ تجارت،اس سے مراد وہ سامان ہے جو خرید یا فروخت کیلئے رکھاجاتاہے۔ ان کے علاوہ جوچیزیں انسان کی ملکیت میں ہوں،ان میں اگرچہ زکوٰۃ واجب نہیں ہے لیکن بطورِ صدقہ دی جاسکتی ہیں ،صدقہ کا باب انتہائی وسیع ہے اور یہ عمل بہت زیادہ موجب ِاجرہے۔ فرضیت ِ زکوٰۃ کے حوالے سے یہ فرمان باربار ذکر ہوتا ہے: