کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 66
[وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ] یعنی:اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ اداکرو۔ یہ آیت کریمہ اس امر کی متقاضی ہے کہ زکوٰۃ اداکرنا فرض ہے اور صاحبِ مال پراس تعلق سے مسئولیت اورذمہ داری مستقل قائم رہتی ہے۔ زکاۃ کی اہمیت زکوٰۃ کی اہمیت کی یہی دلیل کافی ہے کہ اسے کتاب وسنت میں نماز کے قرین کے طور پر ذکرکیاگیاہے،اور یہ ذکر انتہائی تکرار کے ساتھ واردہے، اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: [فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَــلُّوْا سَـبِیْلَہُمْ] ترجمہ:ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوٰۃ اداکرنے لگیں توتم ان کی راہیں چھوڑدو۔ نیز فرمایا: [فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ] ترجمہ:اب بھی اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکوٰۃدیتے رہیں، توتمہارے دینی بھائی ہیں۔ نیز فرمایا: [وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِــیَعْبُدُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ۰ۥۙ حُنَفَاۗءَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ]