کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 67
ترجمہ:انہیں اس کے سوا کوئی حکم نہیںدیاگیا کہ صرف اللہ کی کی عبادت کریں اسی کیلئے دین کو خالص رکھیں ۔ابراھیم حنیف کے دین پر اورنماز کوقائم رکھیں اور زکوٰۃ دیتے رہیں یہی ہے دین سیدھی ملت کا۔ مصارفِ زکاۃ کابیان قرآن مجید نے زکوٰۃ کے آٹھ مصارف مقرر کیئے ہیں، اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: [اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِیْلِ۰ۭ فَرِیْضَۃً مِّنَ اللہِ ۭ وَاللہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ] ترجمہ :صدقے صرف فقیروںکیلئے ہیں اورمسکینوں کیلئے اور ان کے وصول کرنے والوں کیلئے اور ان کیلئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اورقرض داروں کیلئے اور اللہ کی راہ میں اور راہرومسافروں کیلئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت والا ہے۔ مذکورہ آیاتِ قرآنی سے واضح ہوگیا کہ زکوٰۃ،نماز کی قرین ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں عمل باہم مربوط ہیں،چنانچہ اگر کوئی شخص نمازتواداکرے لیکن زکوٰۃ نہ د ے،یا زکوٰۃ تواداکرے لیکن نماز کا تارک ہو تواس کی تمام ترسعی لاحاصل ہوگی۔ مانعین زکاۃ کے متعلق ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاا نتہائی سخت مؤقف سلف صالحین ان دونوں فریضوں کے مابین تفریق،انتہائی معیوب قراردیتے تھے، امیر المؤمنین سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں جب لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکارکیا تو آپ نے فرمایاتھا: (وﷲ لأقاتلن من فرق بین الصلاۃ والزکاۃ )یعنی: اللہ کی قسم!میں ان لوگوں سے ضرور لڑونگا جنہوں نے نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کھڑی کردی ہے۔