کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 69
مالدار لوگ جو زکوٰۃ اداکرتے ہیں،کسی بڑے نقصان میں مبتلا نہیں ہوتے؛ کیونکہ بہت زیادہ مال میں سے،بہت کم حصہ اداکرنا فرض کیاگیا ہے، مثلاً:انسان کی نقد ملکیت میں ہر سوروپے پر صرف اڑھائی روپے نکالنا ضروری قراردیاگیاہے،جودیکھا جائے تو بہت کم بنتاہے،اور صاحبِ مال کیلئے زیادہ نقصان کا موجب نہیں بنتا،اس پر مستزاد یہ کہ اس کامال پاکیزہ ہوجاتا ہے اور اللہ رب العزت کی محبت اور رضا کے علاوہ،مال کی برکت کے وعدے حاصل ہوتے ہیں : [وَعْدَ اللہِۭ لَا یُخْلِفُ اللہُ وَعْدَہٗ ] [وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِیْثًا] زکاۃادانہ کرنیوالوں کیلئے سخت وعید اس قدر آسانی کے باوجود،جولوگ ادائیگیٔ زکوٰۃ میں پس وپیش سے کام لیتے ہیں،یا کسی قسم کی غفلت اورکوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں، وہ اللہ رب العزت کی طرف سے شدید ترین وعید کے مستحق ٹھہرتے ہیں،امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں باب قائم فرمایا ہے:(باب إثم مانع الزکاۃ)یعنی:زکوٰۃ نہ دینے والے کے گناہ (اوروعید)کاذکر۔ اس باب کے تحت سورۃ التوبہ کی درج ذیل دوآیات کا ذکرفرمایا ہے: [وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنْفِقُوْنَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ۰ۙ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۙ یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْہَا فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکْوٰی بِہَا جِبَاہُہُمْ وَجُنُوْبُہُمْ وَظُہُوْرُہُمْ۰ۭ ہٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ]ترجمہ:اورجولوگ سونے چاندی کاخزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے،انہیں