کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 72
چوتھا رکن اسلام:صیامِ رمضان حدیث ِجبریل میں اسلام کی تعریف میں مذکور چوتھی چیز،رمضان کے روزے ہیں،روزہ اسلام کا چوتھارکن ہے،یہ ایک بدنی عبادت ہے،جس کی شرعی تعریف یہ ہے :الإمساک عن المفطرات من طلوع الفجر الثانی إلی غروب الشمس تعبد ﷲ۔ یعنی: اللہ تعالیٰ کی عبادت انجام دیتے ہوئے فجرِ ثانی کے طلوع سے لیکر غروبِ آفتاب تک تمام مفطرات سے رُکے رہنا۔ مفطرات اور ان کی شرطیں مفطرات سے مراد وہ امور ہیں جن سے روزہ ٹوٹ جاتاہے، مثلاً: کھانا،پینا اور جماع وغیرہ۔ مفطرات کے تعلق سے ایک وضاحت پیشِ خدمت ہے،جو عام طورپہ کتب میں ذکرنہیں ہوتی: کوئی بھی مفطرچیزاس وقت تک روزہ توڑنے کاسبب نہیں بنے گی جب تک اس میں تین شرطیں نہ پائی جائیں:1اسے اس مفطر شیٔ کا علم ہو2 مفطرشیٔ کا استعمال بھول کرنہ کیا ہو3 مفطر شیٔ کا استعمال ارادہ کے ساتھ ہو۔ پہلی شرط کی توضیح اس طرح ہے کہ اگر ایک شخص یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوچکا ہے کچھ کھاپی لیتاہے،بعد میں اسے علم ہوتا ہے کہ ابھی تک سورج غروب نہیں ہوا،تو اس کا روزہ درست ہوگا؛ کیونکہ اس کا کھاپی لینا عدمِ علم کی بناء پرتھا،اس کی دلیل صحیح بخاری میں مروی اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے،وہ فرماتی ہیں :ہم نے ایک روز نبی علیہ السلام کے دورمیں جبکہ مطلع ابرآلودتھا،روزہ افطارکرلیا،بعد میں سورج دوبارہ نظرآگیا۔