کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 73
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء کاحکم نہیں دیاتھا،اگرقضاء واجب ہوتی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور حکم دیتے اور وہ حکم ہماری طرف منقول ہوتا۔ دوسری شرط یہ ہے کہ مفطر شیٔ کا استعمال جان بوجھ کر ہوتو روزہ ٹوٹے گا ،اگر بھولے سے ہوگیا تونہیں ٹوٹے گا۔ مذکورہ دونوں شرائط کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی بن سکتی ہے: [ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا] یعنی:اے ہمارے رب!ہماری بھول چوک اورخطأپر ہمارا مواخذہ نہ فرمانا۔ نیز اللہ تعالیٰ کافرمان ہے: [وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِہٖ ۙ وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ] یعنی:تمہاری خطأ پر کوئی ہرج نہیں،لیکن جو تمہارے دل کے قصد کے ساتھ ہو۔(یعنی جان بوجھ کر) تیسری شرط سے مراد یہ ہے کہ مفطر شیٔ کا استعمال اپنے ارادہ سے ہوتو روزہ ٹوٹے گا،مثلاً:بعض اوقات کسی شخص کوجبرواکراہ کے ساتھ کھانے پینے پر مجبورکردیاجائے،یا بحالت ِ نیند کوئی کھانے پینے کی چیز اس کے منہ میں داخل ہوجائے ،تویہ صورتیں روزے کیلئے ناقض نہیں ہونگی۔فقہاء نے اسی سے ایک اور مسئلہ استنباط کیا ہے،اور وہ یہ کہ شوہر کا روزے دار بیوی کو جماع پر مجبورکرنا،دریں صورت عورت پر قضاء نہیں ہوگی،نہ کسی قسم کا کفارہ۔(انتہیٰ ملخصا من کلام الشیخ ابن عثیمین) روزے کی فضیلت میں سب سے جامع حدیث عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال :کل عمل ابن آدم لہ،الحسنۃ