کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 74
بعشر أمثالھا الی سبع مائۃ ضعف،قال ﷲ عزوجل الا الصیام فانہ لی وأنا أجزی بہ،انہ ترک شھوتہ وطعامہ وشرابہ من أجلی۔للصائم فرحتان:فرحۃ عند فطرہ، وفرحۃ عند لقاء ربہ، ولخلوف فم الصائم أطیب عند ﷲ من ریح المسک . ترجمہ:ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کا ہر عمل اس کیلئے (اس طرح باعثِ اجر ہے) کہ ایک نیکی دس گنا سے لیکر سات سو گنا کے برابر ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزہ کے ،بے شک وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا ء دونگا،کیونکہ بندہ اپنی (جائز)خواہشاتِ نفس اور کھانا پینا میرے لئے چھوڑتا ہے۔روزہ دار کیلئے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت دوسری اپنے پروردگار سے ملاقات کے وقت۔روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ تعالیٰ کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ محبوب ہے ۔ روزہ ایک سری عبادت ہے اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جسے سرّیّت کا تمیز حاصل ہے، یعنی یہ بندے اور اس کے پروردگار کے درمیان ایک راز ہے،جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات رمضان کے مہینے میں ایک شخص کا روزہ نہیں ہوتا اور لوگ اسے روزہ دار سمجھتے ہیں،جبکہ عام دنوں میں ایک شخص کا نفلی روزہ ہوتا ہے اور لوگ اسے روزہ سے نہیں سمجھ رہےہوتے۔ اسی سریت اور رازداری نے روزہ کے اجرکو کئی چند بڑھادیا، چنانچہ ہرنیکی کا صلہ دس گناسے سات سو گناتک ہے (اوریہ بھی بہت زیاد ہ ہے)جبکہ روزے کااجر بلاحساب ہے، اللہ تعالیٰ حدیثِ قدسی میں فرماتاہے:(فإنہ لی وأنا اجزی بہ)یعنی:یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دونگا۔ امرِ واقع یہ ہے کہ ہرنیکی اللہ کیلئے ہے،جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان :