کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 75
[قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ] یعنی: کہہ دیجئے! میری تمام بدنی اورمالی عبادات ،نیز میری پوری زندگی اورموت ، اللہ رب العالمین کیلئے ہے۔ اس حدیث میں روزہ کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کافرمانا کہ یہ میرے لئے ہے (حالانکہ ہرعمل اللہ تعالیٰ کیلئے ہے)اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ سراسر ایک مخفی عمل ہے،جس پر اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی مطلع نہیں ہوپاتا۔ اس بیان سے یہ فقہ حاصل ہوتی ہے کہ روزے دار انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے روزے کو مخفی رکھنے پر بھرپور توجہ دے،ایسی کوئی حرکت نہ کر ے جس سے وہ اپنا روزہ دار ہونا ظاہرکررہاہو۔ ویسے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:(من صام یرائی فقد أشرک)دکھاوے کا روزہ شرک ہے۔ واضح ہوکہ مذکورہ حدیثِ ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ کا پہلا جملہ صحیح بخاری میں ایک دوسری سند کے ساتھ اس طرح وارد ہے: (لکل عمل کفارۃ والصوم لی وأنا اجزی بہ …الحدیث) یعنی(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) ہر عمل کیلئے کفارہ ہوتا ہے جبکہ روزہ میرے لئے ہے اور میں نے اس کی جزاء ضرور دینی ہے۔ اس حدیث میں روزہ کی ایک نہایت منفرد اورعظیم الشان فضیلت مذکور ہے، جس کی تفصیل اس طرح ہے کہ ہر عمل یاعبادت بندے کیلئے کفارہ کے طورپر ہے،کفارہ ہونے کے دو معنی ہیں: ایک یہ کہ بندہ جو گناہ کرتا ہے وہ روزہ کے علاوہ بقیہ اعمالِ صالحہ کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں